نئی دہلی،27؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات میں روپانی حکومت کو حلف لینے کے چند دنوں کے اندر ہی بہت بڑی کامیابی ملی ہے۔گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے پہلے حکم کی منظوری دی ہے، جس کے ذریعہ حکومت نجی اسکولوں کی فیس کو منظم کرتی ہے۔یعنی اب نجی اسکول حکومت کی طے فیس سے زیادہ نہیں لے سکتے۔اس فیصلے کے ساتھ نجی اسکول انتظامیہ کوسخت جھٹکالگاہے لیکن والدین اس سے بہت خوش ہیں۔عدالت نے حکومت کے فیس کنٹرول قانون کو مسترد کیا اور کہا کہ تمام نجی اسکولوں کو اس قانون کو قبول کرنا پڑے گا۔چھوٹے بچوں کے والدین کے لئے ان اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیس اور مہنگی تعلیم سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ملک میں نجی ا سکولوں میں فیس پرلگام لگانے کے لئے پہلااسکول فیس قانون تھا۔گجرات حکومت کوملی اس کامیابی کے بعد اب اس طرح کی کوششیں دیگر ریاستوں میں بھی کی جاسکتی ہیں۔دہلی کی کجریوال اور یو پی کی یوگی سرکار نے بھی اس سمت میں کوششیں شروع کی ہیں۔عدالت نے پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کی طرف سے درج کردہ قانون پر پابندی کے لئے درخواست بھی مسترد کردی ہے۔گارڈین بورڈ احمد آباد کے صدر نریش راول نے کہاکہ گجرات ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ سب سے بڑی راحت ہے۔نجی اسکولوں کے ذریعہ ہزاروں لاکھوں روپے لینے سے والدین بہت پریشان تھے،کافی مخالفت کے بعد گجرات نے حکومت نے یہ قدم اٹھایا اور قانون سازی میں ایک نیا قانون بنایا، جس کے مطابق تمام نجی اسکولوں کی فیس کی حد کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اس کے مطابق پرائمری اسکول کے لئے زیادہ سے زیادہ فیس 15000روپے، ثانوی اسکول کے لئے 25000روپے اور ہائی سیکنڈری اسکول کے لئے 27000روپے کی جا سکتی ہے۔اس قانون کے خلاف گجرات کے نجی اسکولوں نے عدالت میں درخواست دی تھی جسے عدالت نے بدھ کو مسترد کر دیا۔یہی نہیں عدالت نے پرائیویٹ اسکولوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ جن اسکول نے 2017-18کے تعلیمی سیشن میں زیادہ فیس لی ان کے والدین کو فیس لوٹانی ہوگی،وہ اسکول جو اس قانون کی تعمیل نہیں کرتے ہیں رد کئے جا سکتے ہیں۔